فتاویٰ جات
ہمارا ادارہ امتِ مسلمہ کی رہنمائی کے لیے مستند اور مدلل فتاویٰ جات فراہم کرتا ہے۔ یہاں آپ کو دینی مسائل کے حل، شرعی رہنمائی اور روزمرہ زندگی کے پیچیدہ سوالات کے جوابات معتبر علماء کی تحقیق اور دلائل کے ساتھ میسر آئیں گے۔ مقصد یہ ہے کہ ہر مسلمان کو قرآن و سنت کی روشنی میں صحیح سمت دکھائی جائے اور معاشرے میں علم و عمل کی بنیاد مضبوط ہو۔
خلع کے بعد سابق شوہر سے دوبارہ نکاح کا شرعی حکم
میرا نکاح 20جولائی2019 کو ہوا تھا جبکہ رخصتی 19ستمبر2019 کو ہوئی۔ اس شادی میں ہماری دو بیٹیاں ہیں۔ لڑائی جھگڑا کرنا، کوئی کام نہ کرنا، مار کٹائی کرنا و دیگر معاملات کی وجہ سے تنگ ہو کر 4جولائی2021 کو عدالت سے خلع لیا تھا۔ اس عرصہ سے اب تک میں الگ ہوں لیکن اب معاملات کافی حد تک بہتر ہوئے ہیں تو ہم باہمی رضا مندی سے دوبارہ ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ کتاب و سنت سے ہماری رہنمائی کریں۔ شکریہ
الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
الحمد لله والصلاة والسلام على من لا نبي بعده، أما بعد!
خلع کی دو صورتیں ہوتی ہیں: بذریعہ عدالت اور ماورائے عدالت ۔
پہلی صورت بالاتفاق درست ہے، جبکہ دوسری کے متعلق بھی سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا فتوی صحیح بخاری میں موجود ہے:
وأجاز عمر الخلع دون السلطان. (بخاری کتاب الطلاق حدیث: 5273)
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حاکمِ وقت کے بغیر بھی خلع کو جائز قرار دیا ہے ۔
یعنی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ ماورائے عدالت کے خلع کو صحیح سمجھتے تھے جبکہ یہاں تو عدالت نے خلع کا فیصلہ کیا ہے اور عدالتی خلع کی شرعی حیثیت مسلم ہے اسکا اعتبار کیا جائے گا۔ اگر عدالت نے خلع دے دیا ہے تو مسکان کنول کا خلع ہوگیا ہے۔
خلع لینے والی عورت کی عدت (اگر وہ حاملہ نہ ہو تو) ایک حیض ہے۔ جیسا کہ سیدنا عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی نے ان سے خلع لے لیا تو نبی کریمﷺ نے اسے ایک حیض عدت گزارنے کا حکم دیا۔ (سنن الترمذی:1185) اس میں راجح موقف بھی یہی ہے۔ اور یہ عدت جج کا فیصلہ دینے کی تاریخ سے حساب کی جائی گی اگرچہ ڈگری بعد میں جاری کی جائے۔ اسی طرح اگر دوبارہ اسی شخص سےرضا مندی سمیت تمام شروط کے ساتھ نکاح کا ارادہ ہو جائے تو یہ جائز ہے۔
سیدنا عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
أن امرأة ثابت بن قيس اختلعت من زوجها، ثم جاءت إلى النبي ﷺ، فقالت: يا رسول الله، إني أخذت منه حديقة، أفأحل له أن أتزوج به؟ فقال النبي ﷺ: نعم، إن شاء فتزوجا. (رواہ البیہقی، السنن الکبریٰ: 7/ 315، رقم 14885)
سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی نے اپنے شوہر سے خلع لیا، پھر وہ نبی ﷺ کے پاس آئیں اور کہا: یا رسول اللہﷺ! میں نے ان سے (خلع میں) باغ لے لیا تھا، تو کیا اب دوبارہ نکاح کر سکتی ہوں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ہاں، اگر وہ چاہے تو نکاح کر لو۔
یہ حدیث واضح دلیل ہے کہ اگر کوئی عورت خلع لینے کے بعد اپنے سابق شوہر سے دوبارہ نکاح کرنا چاہے تو ایسا جائز ہے۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دیں پھر اس عورت نے اپنے شوہر سے خلع لے لیا تو اس کے بارے میں(سیدنا )عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا: اگر وہ چاہے تو اس سے (دوبارہ) نکاح کر سکتی ہے۔
سفيان عن عمرو بن دينار عن طاوس قال سأل إبراهيم بن سعد ابن عباس رضي الله عنهما عن رجل طلق امرأته تطليقتين ثم اختلعت منه أيتزوجها ؟ (کتاب الام ج5ص114)
امام نووی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: اگر عورت نے خلع لیا، تو اس کے سابق شوہر کے لیے جائز ہے کہ وہ اس سے نئے نکاح کے ذریعے دوبارہ شادی کرے، کیونکہ خلع قطعی طلاق نہیں ہے۔
إذا اختلعت المرأة، جاز له أن يتزوجها مرة أخرى بعقد جديد، لأن الخلع ليس طلاقاً باتاً. (المجموع شرح المهذب: 16/349)
آپ کو یہ نصیحت ہے کہ اپنی زندگی کو کتاب و سنت کے مطابق گزاریں تاکہ ایسی پریشانیوں اور نادانیوں سے محفوظ رہیں اپنے گھر میں پردہ کا اہتمام کریں تاکہ گھر بھی پرسکون رہے۔ انسان کی زندگی ختم ہو جانی ہے لیکن اگر وہ زندگی اللہ اور اس کے رسولﷺ کے طریقہ پر نہ گزاری ہوئی تو پھر سوائے افسوس کے کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔ لہذا ابھی اپنے آپ کو سنبھال لیں اور اپنی زندگی کے معاملات کو درست کریں۔ واللہ اعلم بالصواب
وصلی اللہ وسلم علی نبینا محمد وعلی آلہ وأصحابہ أجمعین
ایک مجلس میں تین طلاق اور رجوع کی شرعی حیثیت
میری شادی 25 اگست 2024 کو بعوض حق مہر دو لاکھ روپے سر انجام پائی۔ حق مہر کا ایک لاکھ فوری ادا کیا گیا اور ایک لاکھ بعد میں ادا ہونا تھا جو کہ اب تک نہیں کیا۔
ہمارا ذاتی آپس کا کوئی خاص جھگڑا نہیں ہے مگر کہ میرے والدین کو لے کر کچھ نوک جھوک ہوتی ہے اور خصوصی طور پر نوال احمد کے رشتہ داروں کی طرف سے دخل اندازی کرتے ہوئے معاملات خراب کیے جاتے ہیں جس کی وجہ سے 28 جون 2025 کو میں نے بذریعہ اسٹامپ پیپر طلاق بھیجی تھی اور اس وقت میری بیوی حمل سے تھی جو کہ بغیر رجوع یا صلح کے 11 ستمبر کو بیٹے کی صورت میں وضع حمل ہو چکا ہے۔
ہمارے اس معاملے کو میرے سسرال کی جانب سے عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے جبکہ ہم باہمی رضا مندی سے آپس میں صلح صفائی سے گھر بسانا چاہتے ہیں۔
عدالت نے ہم سے شرعی رہنمائی کے لیے فتوی طلب کیا ہے کہ کیا ہم اب صلح کر سکتے ہیں ؟ کیا یہ طلاق واقع ہو چکی ہے ؟
ہماری اس مسئلہ میں کتاب و سنت کے ذریعہ رہنمائی فرمائیں۔ شکریہ
الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
الحمد لله والصلاة والسلام على من لا نبي بعده، أما بعد!
مسئلہ طلاق بڑی نزاکت کا حامل ہے لیکن ہم لوگ اس سلسلہ میں بہت لاپرواہ واقع ہوتے ہیں، معمولی گھریلو ناچاکی کی بنیاد پر یکبار تین طلاق دے دینا ہماری عادت بن چکی ہےحالانکہ طلاق دینے کا یہ طریقہ رسول اللہ ﷺ کو انتہائی ناپسند تھا، آپﷺ نے اس انداز سے طلاق دینے کو اللہ کی کتاب کے ساتھ کھیل اور مذا ق قرار دیا ہے۔ (سنن نسائی، کتاب الطلاق:3430)
البتہ کتاب وسنت کی رو سے ایک مجلس میں دی ہوئی بیک وقت تین طلاقیں دینے سے ایک رجعی طلاق ہوتی ہے بشرطیکہ طلاق دینے کا پہلا یا دوسرا موقع ہو ۔دلائل حسب ذیل ہیں:
1۔ ارشادِ باری تعالی ہے: {الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ} [البقرة: 229]
طلاق دو بار ہے پھر یا تو سیدھی طرح عورت کو روک لیا جائے یا بھلے طریقے سے اس کو رخصت کر دیا جائے۔
اگر تینوں طلاقیں بیک وقت شمار کرلی جائیں، تو ’روک رکھنے‘ کا مفہوم ختم ہوجاتا ہے۔ اسی طرح فرمایا:
{يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ} [الطلاق: 1]
اے نبی! (اپنی امت سے کہو کہ) جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینا چاہو تو ان کی عدت (کے دنوں کے آغاز) میں انہیں طلاق دو اور عدت کا حساب رکھو ۔
اگر تینوں طلاقیں ایک ہی مرتبہ شمار کرلی جائیں، تو پھر خاوندوں کے لیے عدت شمار کرنے اور حساب رکھنے کا کوئی مطلب باقی نہیں رہتا!
2۔سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے عہد نبوت، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دو سالہ دور حکومت میں تین طلاقیں، ایک طلاق کا حکم رکھتی تھیں، لیکن کثرتِ طلاق کی وجہ سے سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے کہا کہ لوگوں نے اس معاملہ میں جلدی کی جس میں ان کے لیے نرمی اور آسانی تھی، اگر میں اسے نافذ کردوں تو بہتر ہے ۔اس کے بعد انہوں نے اسے نافذ کر دیا (صحیح مسلم، الطلاق،1472) تاہم سیدنا عمررضی اللہ کا یہ اقدام تعزیری وانتظامی نوعیت کا تھا، جیسا کہ اس بات کو کئی ایک حنفی اکابرین نے بھی تسلیم کیا ہے۔(ملاحظہ ہو: جامع الرموز کتاب الطلاق، 2/ 277، اور حاشیہ طحطاوی على الدر المختار)
3۔سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں سیدنا رکانہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دے دیں۔ لیکن اس کے بعد بہت افسردہ ہوئے رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ تم نے اسے طلاق کس طرح دی تھی؟ عرض کیا:تین مرتبہ۔ آپﷺ نے دوبارہ پوچھا: ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دی تھیں ؟عرض کیا! ہاں۔ آپﷺ نے فرمایا: پھر یہ ایک ہی طلاق ہوئی ہے اگر تم چاہو تو رجوع کر سکتے ہو۔ راوی حدیث سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے بیان کے مطابق انہوں نے رجوع کر کے اپنا گھر آباد کر لیا تھا۔(مسند احمد:ص 123/4 ، ت: احمد شاکر)
اس حدیث کے متعلق حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
هذا الحدیث نص فی المسئلة لایقبل التأویل. (فتح الباری : 362/ 9)
یہ حدیث مسئلہ طلاق ثلاثہ کے متعلق ایک فیصلہ کن دلیل کی حیثیت رکھتی ہے جس کی کوئی تاؤیل نہیں کی جاسکتی ۔
بعض علمائے احناف نے بھی دلائل کے پیش نظر ان احادیث کے مطابق فتوی دیا ہے۔ ان علما میں مولانا پیر کرم شاہ ،مولانا عبدالحلیم قاسمی، مولانا حسین علی واں بھچراں،مولانا احمد الرحمٰن اسلام آباد اور پروفیسر محمد اکرم ورک سرِفہرست ہیں ۔ ان کے فتاویٰ کی تفصیل(ایک مجلس میں تین طلاق) نامی کتاب میں دیکھی جاسکتی ہے۔ بہرحال ان حقائق کی روشنی میں ایک باغیرت مسلمان کے لیے گنجائش ہے کہ اگر اس نے ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دی ہیں تو دورانِ عدت بلاتجدیدِ نکاح رجوع کر سکتا ہے اور اگر عدت گزر چکی ہے تو بھی تجدیدنکاح سے اپنا گھر آباد کرسکتا ہے ۔قرآن و حدیث کا یہی فیصلہ ہے اس کے علاوہ ہمارے ہاں رائج الوقت عائلی قوانین اور دیگر اسلامی ممالک میں بھی یہی فتوی دیا جاتاہے۔
بلاوجہ طلاق تو ویسے ہی ناپسندیدہ فعل ہے، لیکن کسی کے ردِ عمل میں طلاق دینا، یہ انتہائی مذموم اور قبیح حرکت ہے، ایسے شخص کو بیوی سے رجوع کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی سے توبہ بھی کرنی چاہیے۔ مزید گزارش ہے کہ آپ لوگ نماز، روزہ، ذکر واذکار اور تلاوتِ قرآن کریم کی پابندی کیا کریں، وقتا فوقتا صدقہ وخیرات، اور رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آئیں۔ ان نیکیوں کی برکت سے امید ہے اللہ تعالی آپ کے تمام مسائل اور پریشانیوں کو حل فرمادیں گے۔ ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی آپ سب اہل خانہ کو سعادتمندی اور نیکی وتقوی سے بھرپور لمبی زندگی عطا فرمائے۔ آمین۔
ایک مجلس میں جتنی مرتبہ بھی طلاق کہا جائے اسے تین پر قید کرنا بھی درست نہیں ہے اپنے گھر والوں کو کتاب و سنت کی تعلیم سیکھائیں اور خود بھی سیکھیں اور اس پر عمل کریں اسی میں دنیا و آخرت کی بھلائی ہے۔
حالت حمل میں طلاق ہو جاتی ہے۔
چنانچہ رسول اللہﷺ کا فرمان ہے: مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا، ثُمَّ لِيُطَلِّقْهَا طَاهِرًا، أَوْ حَامِلًا اسے حکم دو کہ وہ اس سے رجوع کرے، پھر اسے حالت طہر میں یا حالت حمل میں طلاق دے۔ (مسلم: 1471)
اللہ تعالیٰ نے حالت حمل میں دی ہوئی طلاق کی عدت وضع حمل رکھی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ يَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ (الطلاق، 4) عورتوں کی عدت یہ ہے کہ اپنا حمل جنم دے دیں۔
لہذا یہ طلاق کا پہلا یا دوسرا موقع ہے تو رجوع کرنے کا شرعی موقع موجود ہے۔
حاملہ عورتوں کی عدت بیان کرنے کا مطلب یہ ہے کہ دوران حمل طلاق دی جا سکتی ہے اور یہ طلاق بھی نافذ ہے، اگر وضع حمل سے پہلے رجوع کر لیا جائے تو تجدید نکاح کی ضرورت نہیں اور اگر بچہ جنم دینے کے بعد صلح کا پروگرام بنا ہے تو تجدید نکاح کے ساتھ رجوع ہو سکے گا۔ کیونکہ وضع حمل کے بعد نکاح ختم ہو جاتا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ(سورة البقرة:232)
جب تم نے اپنی عورتوں کو طلاق دے دی،پھر وہ اپنی عدت پوری کر لیں تو انہیں اپنے خاوندوں سے نکاح کرنے سے نہ روکو جبکہ وہ آپس میں دستور کے مطابق رضامند ہوجائیں۔
لہٰذا معلوم ہوا کہ عدت ختم ہونے کے بعد بذریعہ نکاح جدید دونوں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوسکتے ہیں۔
بشرطیکہ بیوی نکاح جدید کےلیے راضی ہو۔ كيونكہ جیسے ولی کی اجازت شرط ہے اسی طرح بیوی کی رضامندی بھی شرط ہے ۔سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی کریمﷺ سے بیان فرماتے ہیں:
الْأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ فِي نَفْسِهَا، وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا (صحيح مسلم :1421)
بیوہ اپنے ولی کی بہ نسبت اپنے بارے میں زیادہ حق دار ہے اور کنواری سے بھی اس کے اپنے بارے میں مشورہ کیا جائے گا اور اس كی خاموشی ہی اس کی اجازت شمار ہوگی۔
اس کے علاوہ حق مہر بھی نیا ہوگا کیونکہ پہلا حق مہر نکاح کے ختم ہونے سے ختم ہوجاتا ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ نکاح بند کمرے میں نہ ہو بلکہ گواہوں کی موجودگی لازمی ہے۔
آخر میں آپ کو یہ نصیحت کرتے ہیں کہ اپنی زندگی کو کتاب و سنت کے مطابق گزاریں تاکہ ایسی پریشانیوں اور نادانیوں سے محفوظ رہیں اپنے گھر میں پردہ کا اہتمام کریں تاکہ گھر بھی پرسکون رہے۔ انسان کی زندگی ختم ہو جانی ہے لیکن اگر وہ زندگی اللہ اور اس کے رسولﷺ کے طریقہ پر نہ گزاری ہوئی تو پھر سوائے افسوس کے کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔ لہذا ابھی اپنے آپ کو سنبھال لیں اور اپنی زندگی کے معاملات کو درست کریں۔ واللہ اعلم بالصواب
وصلی اللہ وسلم علی نبینا محمد وعلی آلہ وأصحابہ أجمعین
