ہمارا مقصد اور اہداف

اتحاد المدارس الاسلامیہ پاکستان — دینی و عصری علوم کے حسین امتزاج کے ذریعے باوقار اور علم دوست نسل کی تربیت

ہمارا مقصد

ہمارا مقصد ملک بھر میں دینی و عصری علوم کی ترویج کے ذریعے ایسی متوازن نسل تیار کرنا ہے جو قرآن و سنت سے وابستہ، عملی اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔

ہمارا وژن

ایک پر امن، تعلیم یافتہ اور باہمی رواداری پر مبنی معاشرہ جہاں دینی تعلیم جدید فکر کے ساتھ امت کے لیے جامع رہنمائی فراہم کرے۔

اہدافِ ادارہ

  • دینی و عصری علوم کی ترویج و اشاعت
  • فرقہ واریت کے خاتمے اور اتحادِ امت کا فروغ
  • محب وطن مدرسین اور اسکالرز کی تربیت
  • جدید تعلیم یافتہ طبقے کو علوم اسلامیہ کی جانب راغب کرنا
  • طلبہ میں سائنسی و کمپیوٹر علوم کے شوق اور مواقع پیدا کرنا
  • اسلامی ورثہ کی حفاظت اور معیارِ تعلیم میں بہتری
  • قرآن، حدیث، سیرت، فقہ اور تاریخ کے مطالعے پر زور
  • تزکیہ نفس اور اخلاقی تربیت کو فروغ دینا
  • عربی و انگریزی زبان کی مہارتیں پروان چڑھانا
  • اساتذہ کو جدید تدریسی کورسز کی فراہمی
  • مدارس، جامعات اور مراکز کو منظم و متحد رکھنا
  • عالمی یونیورسٹیوں میں ہونہار طلبہ کے لیے راہیں ہموار کرنا

10,000

سے زائد طلباء و طالبات نے ہمارے ادارے سے تعلیم حاصل کی

35,000

سے زائد فارغ التحصیل افراد دنیا بھر میں دین کی خدمت کر رہے ہیں

6,000

ماہر اساتذہ و عملہ علم، تربیت اور خدمت کے جذبے سے سرشار

طلبہ کی آراء

ہمارے طلبہ کا کہنا ہے کہ یہ ادارہ نہ صرف علمی تربیت دیتا ہے بلکہ کردار سازی، رہنمائی اور اعتماد پیدا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

میں نے یہاں صرف دینی تعلیم نہیں بلکہ زندگی جینے کا سلیقہ بھی سیکھا۔ اساتذہ کا انداز محبت بھرا ہے اور ماحول انتہائی پُرسکون۔

علی رضا
لاہور

یہ ادارہ میرے لیے رہنمائی کا چراغ ثابت ہوا۔ قرآن و سنت کے ساتھ جدید تعلیم نے میرے نظریات کو نیا رخ دیا۔

مریم فاطمہ
کراچی

مجھے یہاں ایسا ماحول ملا جہاں علم، اخلاق اور اعتماد ایک ساتھ پروان چڑھتے ہیں۔ اساتذہ ہمیشہ حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

حارث محمود
اسلام آباد

میں نے کئی ادارے دیکھے مگر یہاں کا نظم و ضبط، اساتذہ کی توجہ اور جدید سہولیات واقعی مثالی ہیں۔ فخر ہے اس ادارے کا حصہ بن کر۔

زینب عباس
فیصل آباد

پراسپیکٹس اتحاد المدارس

پراسپیکٹس کو براہ راست ڈاؤن لوڈ کرنے یا دیکھنے کے لیے نیچے دیئے گئے بٹن پر کلک کریں۔