
تعلیمی ادارے بچوں کے روشن مستقبل کی بنیاد ہوتے ہیں، لیکن جب یہی ادارے غیر محفوظ عمارتوں کے باعث حادثات کا شکار ہوں تو یہ پوری قوم کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ پشاور میں اسکول کی عمارت گرنے سے معصوم بچوں سمیت متعدد افراد کی ہلاکت اور درجنوں کے زخمی ہونے کا افسوس ناک واقعہ انتہائی رنج و غم کا باعث ہے۔ ایسے سانحات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ بچوں کی حفاظت محض انتظامی معاملہ نہیں، بلکہ دینی، اخلاقی اور قومی ذمہ داری ہے۔
انسانی جان کا تحفظ اسلامی تعلیمات کا تقاضا
اسلام انسانی جان کی حرمت اور حفاظت کو بنیادی اہمیت دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا
ترجمہ: ’’اور جس نے ایک جان کو بچایا، گویا اس نے تمام انسانوں کو بچایا۔‘‘ (سورۃ المائدۃ: 32)
یہ تعلیم ہمیں ہر انسانی جان کی قدر کرنے اور اس کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے کا درس دیتی ہے۔
اتحاد المدارس الاسلامیہ پاکستان کا مطالبہ
اتحاد المدارس الاسلامیہ پاکستان کے صدر مفتی محمد یوسف خان نے اس سانحے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ملک بھر کے سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کی عمارتوں کا فوری تکنیکی معائنہ کرانے، خطرناک عمارتوں کو خالی کرانے اور غفلت کے ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ناظم الامتحانات مفتی اکرام اللہ واحدی نے بھی بچوں کی حفاظت کو دینی، اخلاقی اور معاشرتی ذمہ داری قرار دیا اور واقعے کی مکمل تحقیقات پر زور دیا۔
تعلیمی اداروں کی حفاظت کیوں ضروری ہے؟
اسکولوں اور مدارس میں زیرِ تعلیم بچے والدین کی امانت ہیں۔ عمارتوں کی مضبوطی، ہنگامی راستوں کی دستیابی اور حفاظتی انتظامات کو نظرانداز کرنا ناقابلِ تلافی نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ متعلقہ حکام اور اداروں کے ذمہ داران پر لازم ہے کہ حفاظتی تقاضوں کو اولین ترجیح دیں۔
کرنے کا کام
ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے واقعات کے بعد صرف افسوس کا اظہار نہ کیا جائے، بلکہ مؤثر حفاظتی اقدامات بھی یقینی بنائے جائیں۔ اللہ تعالیٰ جاں بحق افراد کی مغفرت فرمائے، ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا کرے اور زخمیوں کو جلد صحت یابی نصیب فرمائے۔ آمین۔